چکمگلور۔ 28فروری (ایس او نیوز؍یواین آئی ) ریتی کی منتقلی اور معدنیات روانہ کرنے سے متعلق 4ہزار پرمٹس کے بیجا استعمال میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات پر کرناٹک حکومت کے سات افسروں بشمول پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے سینئر افسروں کو گرفتار کرلیاگیا۔ گرفتار شدگان میں اگزیکیٹیو انجینئر ' اسسٹنٹ اگزیکیٹیو انجینئر ' دو سکنڈ ڈیویژنل اسسٹنٹس ' دو گروپ ڈی کے ملازمین اور ا یک کنٹراکٹر شامل ہیں۔ پولیس نے آج یہاں جاری کردہ پریس ریلیز میں گرفتار افراد کے ناموں کا انکشاف نہیں کیا۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے اناملائی نے کہا کہ بیتھن گڈی ' بیندور اور کاو پولیس اسٹیشنوں میں اس ریت کی غیر قانونی منتقلی پر معاملات درج کئے گئے ۔پولیس نے جانچ کے دوران پایا کہ ملزمین کے پاس جو پرمٹس تھے وہ چکمگلور سے متعلق تھے ۔ محکمہ معدنیات و طبقات الارض نے ریت کی منتقلی کے لئے پی ڈبلیو ڈی کو یہ اجازت نامے جاری کئے تھے تاہم اڈوپی ضلع کے پرائیویٹ آپریٹرس نے ان کا غلط استعمال کیا۔ اڈوپی ضلع پولیس کی خواہش پر چکمگلور پولیس نے محکمہ معدنیات و طبقات الارض اور پی ڈبلیو ڈی کے دفاتر کی تلاشی لی۔ سمجھا جاتا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کے افسروں نے ملزمین کو 4000اجازت نامے جاری کئے ۔ پولیس نے 7افراد کو تحویل میں لیتے ہوئے اڈوپی پولیس کے حوالے کردیا۔